حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرمِ امام حسین علیہ السلام میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی ہفتۂ قرآنِ کریم کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس پروگرام میں پانچویں بین الاقوامی کربلا ایوارڈ سمیت متعدد قرآنی سرگرمیاں شامل ہیں، جبکہ 30 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے قراء، علماء اور مذہبی شخصیات اس میں شریک ہیں۔
تقریب میں حوزۂ علمیہ کے استاد سید ریاض سعید الحکیم نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم اسلام کا ابدی معجزہ اور امتِ مسلمہ کی شناخت اور اصولوں کے تحفظ کا بنیادی ستون ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے معجزات ایک مخصوص زمانے سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ قرآنِ کریم کی ہدایت اور اثرات ہر دور اور ہر نسل تک جاری رہتے ہیں، جو اس کی آفاقی اور زمان و مکان سے ماورا حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔
سید ریاض سعید الحکیم نے مزید کہا کہ قرآنِ کریم کا ایک اہم کردار اسلامی معاشرے کی شناخت کا تحفظ اور اسے انحراف و انتشار سے محفوظ رکھنا ہے، کیونکہ یہی الٰہی کتاب اسلام کے بنیادی عقائد، اصول اور حقیقی تشخص کی محافظ ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کو چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود قرآنِ مجید آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کی دینی اور روحانی شناخت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
استادِ حوزہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول متعدد روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم کی خوبصورت، صحیح اور مؤثر تلاوت پر خصوصی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ حسنِ قرائت قرآنی معارف کو بہتر انداز میں منتقل کرنے اور مؤمنین کے دلوں میں الٰہی پیغام کے ساتھ گہرا روحانی اور جذباتی تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآنی تعلیمات سے وابستگی اور قرآنِ کریم کی درست تلاوت امتِ مسلمہ کے فکری، اخلاقی اور معنوی استحکام کی ضمانت ہے، اور ایسے بین الاقوامی اجتماعات قرآنی ثقافت کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ